لارا[1]

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - آس، امید، عذر، بہانہ وغیرہ  حشر کے دن ہی سہی لیکن مجھے کوئ لارا کوئ قارا چاہیے      ( ١٩٨٠ء ، شہر سدا رنگ، ١٨٤ )

اشتقاق

پنجابی زبان سے اردو میں داخل ہوا۔ ١٩٨٠ء کو شہر سدا رنگ میں مستعمل ملتا ہے۔ عام استعمال نہیں ہوتا۔

جنس: مذکر